Thursday, 7 April 2022

مستقبل روشن تر کہیے

 مستقبل روشن تر کہیے

لیکن آنکھ ملا کر کہیے

بربادی کو منظر کہیے

کہیے سوچ سمجھ کر کہیے

سمجھایا تھا دیکھ کے چلیے

کیسی کھائی ٹھوکر کہیے

دم گھٹنے کی بات الگ ہے

طوقِ گلو کو زیور کہیے

آنسو ہیں قانون سے باہر

غم کی باتیں ہنس کر کہیے

آئینہ دکھلانا ہو گا

سچی باتیں منہ پر کہیے

شیخی کی بھی حد ہوتی ہے

کب تک بہتر بہتر کہیے


شاد عارفی

No comments:

Post a Comment