Sunday, 5 December 2021

تھا پا شکستہ آنکھ مگر دیکھتی تو تھی

 تھا پا شکستہ آنکھ مگر دیکھتی تو تھی

مانا وہ بے عمل تھا مگر آگہی تو تھی

الزام نارسی سے مبرا نہیں تھی سیپ

لیکن کسی کے شوق میں ڈوبی ہوئی تو تھی

مانا وہ دشت شوق میں پیاسا ہی مر گیا

اک جھیل جستجو کی پسِ تشنگی تو تھی

احساس پر محیط تھے لفظوں کے دائرے

لفظوں کے دائروں میں مگر زندگی تو تھی

ویراں تھا صحنِ باغ، مگر اس قدر نہ تھا

کونے میں سُوکھے پتوں کی محفل جمی تو تھی

غم دور کر کے اور بھی مفلوج کر دیا

تنہائیوں کی رات میں دل بستگی تو تھی

اس ٹھنڈی رات میں تو اندھیرے کا راج ہے

سورج جلا رہا تھا، مگر روشنی تو تھی


فرحت قادری

No comments:

Post a Comment