Sunday, 5 December 2021

اب سفر رات میں ہی کرتے ہیں

 اب سفر رات میں ہی کرتے ہیں

لوگ اب روشنی سے ڈرتے ہیں

رہ کے اک شہر بے چراغ میں ہم

روز جیتے ہیں، روز مرتے ہیں

یاد آتے ہیں سارے پس منظر

نقش ماضی کے جب ابھرتے ہیں

زندگی یوں بکھر گئی جیسے

ٹوٹ کر آئینے بکھرتے ہیں

گھر کی بوسیدگی چھپانے کو

رنگ دیوار و در میں بھرتے ہیں

اپنے گھر کے قریب سے اکثر

اجنبی بن کے ہم گزرتے ہیں

شام ہوتی ہے گھر چلو احسن

سائے دیوار سے اترتے ہیں


نواب احسن

No comments:

Post a Comment