Monday, 7 June 2021

حقیقتوں پہ ہے دنیا کو اعتراض بہت

 حقیقتوں پہ ہے دنیا کو اعتراض بہت

کہ ہے مزاج زمانہ فسانہ ساز بہت

تِرا غرور عبادت تجھے نہ لے ڈوبے

سنا ہے پڑھتا تھا ابلیس بھی نماز بہت

کوئی بھی فطرت یزداں کا رکھ سکا نہ بھرم

جو ناسزا تھے وہ کہلائے پاک باز بہت

یہ کہ رہے تھے کل آوارگان کوچۂ یار

ادائیں آج بھی اس کی ہیں دلنواز بہت

انہیں شعور محبت نہیں خدا کی قسم

جو لوگ ہیں تِری محفل میں سرفراز بہت

مِری خوشی کا زمانہ ہوا کا جھونکا تھا

مِرے غموں کی رہی زندگی دراز بہت

یہ حسن و عشق کا جوہر ہے اور کچھ بھی نہیں

وہ خود پسند بہت ہیں میں بے نیاز بہت


جوہر نظامی

No comments:

Post a Comment