اکیلی مسکراتی ہو؟ نہیں تو
مجھے تم گنگناتی ہو؟ نہیں تو
میرا ہم نام آئے سامنے تو
ابھی بھی چونک جاتی ہو؟ نہیں تو
میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور تم بھی
کبھی چشمہ لگاتی ہو؟ نہیں تو
میری ٹیبل پہ رکھے ہیں فسانے
فراز و میر گاتی ہو؟ نہیں تو
سنا ہے آج کل تم راہبوں کو
میرے قصے سناتی ہو؟ نہیں تو
کسی منت کے دھاگے باندھتی ہو
دِیے اب بھی جلاتی ہو؟ نہیں تو
خدارا چھوڑ دو اپنی انا کو
مسلسل دل دُکھاتی ہو، نہیں تو
اگر یہ جھوٹ ہے سب، ہاں بتاؤ
تو کیوں نظریں چُراتی ہو؟ نہیں تو
صفیہ چوہدری
صفیہ چودھری
No comments:
Post a Comment