ارے سن رہی ہو
کہاں رہ گئی ہو
ذرا ایک اچھی
الائچی کی خوشبو سے مہکی ہوئی
تازہ دم، گرم سی
مجھ کو چائے پلا دو
سنو
دودھ، شکر زیادہ ہی رکھنا
مگر چھوڑو، رہنے دو
ایسا کرو
تم ذرا دیر کو میرے پاس آ کے بیٹھو
تھما دو ذرا اپنے یہ ہاتھ مجھ کو
لگا لوں لبوں سے
انہی کو کہ یہ بھی تو
نقشِ حنائی کی رنگین خوشبو سے
مہکے ہوئے ہیں
تمنائے قرب و محبت کی حدت سے
دہکے ہوئے ہیں
ہے ان میں بھی وہ ذائقہ
ویسی رنگت
کہ جوں شیرِ میں شہد گھولا ہوا ہو
لو چائے سے پہلے
تمہارے لیے نظم ہی بن گئی ہے
یہ کھٹ پٹ ہے کیسی
نجانے رسوئی میں کیا ڈھونڈتی ہو
ارے سن رہی ہو
کہاں رہ گئی ہو
بہزاد برہم
No comments:
Post a Comment