دل محبت سے ہو گئے خالی
گو کہ نعمت سے ہو گئے خالی
من عداوت سے بھر گئے اتنا
خوب سیرت سے ہو گئے خالی
رنگ ہوتے ہوئے بھی یہ غنچے
اپنی رنگت سے ہو گئے خالی
ضبط کیا کیجیۓ محبت میں
جب کہ ہمت سے ہو گئے خالی
کچھ خبر تک نہ ہو سکی ہم کو
اک نفاست سے ہو گئے خالی
ظلم سہنے کی پڑ گئی عادت
دل بغاوت سے ہو گئے خالی
لوگ تو بے وجہ ہوئے سنقر
ہم ضرورت سے ہو گئے خالی
سنقر سامی
No comments:
Post a Comment