Saturday, 24 April 2021

اسی لیے تو یہاں رتجگا زیادہ ہے

 اسی لیے تو یہاں رت جگا زیادہ ہے

کہ میرے خواب میں وہ جاگتا زیادہ ہے

مجھے تو دور سے عادت ہے اس کو تکنے کی

سو اس کا ایک نظر دیکھنا زیادہ ہے

جو زخم عشق لگاتا ہے راس آتے ہیں

مجھے پتہ ہے تیرا تجربہ زیادہ ہے

میں ہر کسی پر بہت اعتبار کرتی ہوں

خوشی کی بات ہے مگر سانحہ زیادہ ہے

اسے تمیز بھی تو ہونی چاہیے تھی پھر

اگر وہ آپ سے لکھا پڑھا زیادہ ہے 

میرا خیال نہ رکھو کہ میرا دل پیارے 

جو تم سے جڑ بھی گیا تو ٹوٹنا زیادہ ہے 

نبھا رہی ہوں ابھی تک اس زمانے سے

امید کم ہے میری، حوصلہ زیادہ ہے 

وہ سب کو جانچتا رہتا ہے، جانتا ہے سب

جو شخص بولتا کم، دیکھتا زیادہ ہے


تجدید قیصر

No comments:

Post a Comment