اسی لیے تو یہاں رت جگا زیادہ ہے
کہ میرے خواب میں وہ جاگتا زیادہ ہے
مجھے تو دور سے عادت ہے اس کو تکنے کی
سو اس کا ایک نظر دیکھنا زیادہ ہے
جو زخم عشق لگاتا ہے راس آتے ہیں
مجھے پتہ ہے تیرا تجربہ زیادہ ہے
میں ہر کسی پر بہت اعتبار کرتی ہوں
خوشی کی بات ہے مگر سانحہ زیادہ ہے
اسے تمیز بھی تو ہونی چاہیے تھی پھر
اگر وہ آپ سے لکھا پڑھا زیادہ ہے
میرا خیال نہ رکھو کہ میرا دل پیارے
جو تم سے جڑ بھی گیا تو ٹوٹنا زیادہ ہے
نبھا رہی ہوں ابھی تک اس زمانے سے
امید کم ہے میری، حوصلہ زیادہ ہے
وہ سب کو جانچتا رہتا ہے، جانتا ہے سب
جو شخص بولتا کم، دیکھتا زیادہ ہے
تجدید قیصر
No comments:
Post a Comment