Thursday, 3 June 2021

تمہارا ٹوٹا ہوا حوصلہ بڑھائیں گے

تمہارا ٹوٹا ہوا حوصلہ بڑھائیں گے

نمی چھپائیں گے آنکھوں کی مسکرائیں گے

ہمارے مرنے کی ان کو خبر نہیں ہو گی

علیل جان کے سب دوست لوٹ جائیں گے

وہ ہم سے دُور ہے اپنی غلط بیانی پر

اب اس کا بوجھ بھی ہم اپنے سر اٹھائیں گے

سبھی کے واسطے اچھا ہی سوچیں گے لیکن

ہم اپنا آپ کبھی بھی نہیں گنوائیں گے

ہم آشنا ہی نہیں جھُوٹ جیسے پردوں سے

فلک سے ٹُوٹ کے دھرتی پہ جگمگائیں گے

ہم اپنے لہجے بھلے نرم کیوں نہ رکھیں پر

تمہارے نام سے تم کو نہیں بلائیں گے

اسے دکھائیں گے جوبن پہ چاندنی تجدید

ہم اس کو رات کے پچھلے پہر جگائیں گے


تجدید قیصر

No comments:

Post a Comment