تمہارا ٹوٹا ہوا حوصلہ بڑھائیں گے
نمی چھپائیں گے آنکھوں کی مسکرائیں گے
ہمارے مرنے کی ان کو خبر نہیں ہو گی
علیل جان کے سب دوست لوٹ جائیں گے
وہ ہم سے دُور ہے اپنی غلط بیانی پر
اب اس کا بوجھ بھی ہم اپنے سر اٹھائیں گے
سبھی کے واسطے اچھا ہی سوچیں گے لیکن
ہم اپنا آپ کبھی بھی نہیں گنوائیں گے
ہم آشنا ہی نہیں جھُوٹ جیسے پردوں سے
فلک سے ٹُوٹ کے دھرتی پہ جگمگائیں گے
ہم اپنے لہجے بھلے نرم کیوں نہ رکھیں پر
تمہارے نام سے تم کو نہیں بلائیں گے
اسے دکھائیں گے جوبن پہ چاندنی تجدید
ہم اس کو رات کے پچھلے پہر جگائیں گے
تجدید قیصر
No comments:
Post a Comment