Thursday, 17 June 2021

یوں اسے غم میں مبتلا کریں گے

یوں اسے غم میں مبتلا کریں گے

 مسکراتے ہوئے جدا کریں گے

تُو ہمیں چھوڑ کر  چلا جائے گا 

اور ہم خود سے رابطہ کریں گے

تُو نے سب میں خوشی بکھیری ہے 

ہم تِرے عہد سے وفا کریں گے

کالے کپڑے پہن کے گُھومیں گے

خود کو ست رنگیا کیا کریں گے

دیکھا جاتا نہیں ہے آئینہ 

کس طرح تیرا سامنا کریں گے

تیرے پہلو میں جاگنے والے

آنسوؤں سے وضو کیا کریں گے 

تیری باتیں کریں گے پھولوں سے 

باغ میں روشنی کیا کریں گے

آپ کی یاد جب بھی آئے گی 

آپ کے واسطے دعا کریں گے 


تجدید قیصر

No comments:

Post a Comment