یوں اسے غم میں مبتلا کریں گے
مسکراتے ہوئے جدا کریں گے
تُو ہمیں چھوڑ کر چلا جائے گا
اور ہم خود سے رابطہ کریں گے
تُو نے سب میں خوشی بکھیری ہے
ہم تِرے عہد سے وفا کریں گے
کالے کپڑے پہن کے گُھومیں گے
خود کو ست رنگیا کیا کریں گے
دیکھا جاتا نہیں ہے آئینہ
کس طرح تیرا سامنا کریں گے
تیرے پہلو میں جاگنے والے
آنسوؤں سے وضو کیا کریں گے
تیری باتیں کریں گے پھولوں سے
باغ میں روشنی کیا کریں گے
آپ کی یاد جب بھی آئے گی
آپ کے واسطے دعا کریں گے
تجدید قیصر
No comments:
Post a Comment