کہ ہر ستم کا جواب آئے گا
دیکھنا انقلاب آئے گا
زخم پر زخم کھا کر نکلے ہیں
ہاں مگر مسکرا کر نکلے ہیں
سر جھکانے کا حکم جب آیا
اور بھی سر اٹھا کر نکلے ہیں
کہ ہر ستم کا جواب آئے گا
دیکھنا انقلاب آئے گا
اچھے دن کا جو کیے تھے وہ وعدہ
ان کا دن بھی خراب آئے گا
ہم تو نکلے ہیں مسکراتے ہوئے
اور وہ تلملا کر نکلے ہیں
اور بھی سر اٹھا کر نکلے ہیں
کہ ہر ستم کا جواب آئے گا
دیکھنا انقلاب آئے گا
عمران پرتاب گڑھی
محمد عمران خان
No comments:
Post a Comment