Thursday, 17 June 2021

دیکھنا انقلاب آئے گا

کہ ہر ستم کا جواب آئے گا

دیکھنا انقلاب آئے گا


زخم پر زخم کھا کر نکلے ہیں

ہاں مگر مسکرا کر نکلے ہیں

سر جھکانے کا حکم جب آیا

اور بھی سر اٹھا کر نکلے ہیں

کہ ہر ستم کا جواب آئے گا

دیکھنا انقلاب آئے گا


اچھے دن کا جو کیے تھے وہ وعدہ

ان کا دن بھی خراب آئے گا

ہم تو نکلے ہیں مسکراتے ہوئے

اور وہ تلملا کر نکلے ہیں

اور بھی سر اٹھا کر نکلے ہیں

کہ ہر ستم کا جواب آئے گا

دیکھنا انقلاب آئے گا


عمران پرتاب گڑھی

محمد عمران خان

No comments:

Post a Comment