شمالی امریکہ کی حسین خزاں
رنگ بکھرائے خزاں نے کہ دھنک پھوٹی ہے
سبز آنچل پہ گلستاں کے شفق ٹوٹی ہے
دور تک آگ لپکتی ہے چمن سے جیسے
آنچ اٹھتی ہے درختوں کے بدن سے جیسے
رنگ ان رنگوں پہ برسات نے وا رے ہوں گے
تھال صدقے کے بہاروں نے اتارے ہوں گے
دھوپ میں شام کی سرخی کو ملایا ہو گا
تب یہ موسم کہیں قدرت نے سجایا ہو گا
سرخ پتوں نے عجب چھیڑا ہے احساس میں راگ
سر سے جیسے کہیں پانی میں بھڑک اٹھی ہو آگ
آگ ہی آگ، نظاروں میں بھی، احساس میں بھی
اک عجب کیف ہے اس کیفیت یاس میں بھی
دل کبھی ٹوٹتے پتوں سے لپٹ جاتا ہے
کبھی رنگیں حسیں ریت سے اٹ جاتا ہے
کبھی گلرنگ زمیں پیر پکڑ لیتی ہے
اک عجب حس ہے جو ہر حس کو جکڑ لیتی ہے
کوئی کہتا ہے جدھر دیکھو مجھے پاؤ گے
تم مِری کون سی نعمت ہے کہ جھٹلاؤ گے
نسیم سید
No comments:
Post a Comment