Saturday, 15 January 2022

رنگ بکھرائے خزاں نے کہ دھنک پھوٹی ہے

 شمالی امریکہ کی حسین خزاں


رنگ بکھرائے خزاں نے کہ دھنک پھوٹی ہے

سبز آنچل پہ گلستاں کے شفق ٹوٹی ہے

دور تک آگ لپکتی ہے چمن سے جیسے

آنچ اٹھتی ہے درختوں کے بدن سے جیسے

رنگ ان رنگوں پہ برسات نے وا رے ہوں گے

تھال صدقے کے بہاروں نے اتارے ہوں گے

دھوپ میں شام کی سرخی کو ملایا ہو گا

تب یہ موسم کہیں قدرت نے سجایا ہو گا

سرخ پتوں نے عجب چھیڑا ہے احساس میں راگ

سر سے جیسے کہیں پانی میں بھڑک اٹھی ہو آگ

آگ ہی آگ، نظاروں میں بھی، احساس میں بھی

اک عجب کیف ہے اس کیفیت یاس میں بھی

دل کبھی ٹوٹتے پتوں سے لپٹ جاتا ہے

کبھی رنگیں حسیں ریت سے اٹ جاتا ہے

کبھی گلرنگ زمیں پیر پکڑ لیتی ہے

اک عجب حس ہے جو ہر حس کو جکڑ لیتی ہے

کوئی کہتا ہے جدھر دیکھو مجھے پاؤ گے

تم مِری کون سی نعمت ہے کہ جھٹلاؤ گے


نسیم سید

No comments:

Post a Comment