Monday, 3 July 2023

مرے وجود نے اوڑھا ہے ہجر رشتوں کا

 مِرے وجود نے اوڑھا ہے ہجر رشتوں کا

مِرے خیال پہ ٹھہری ہے رات سپنوں کی

میں چاندنی میں نہایا ہوں زرد موسم کی

مِرے لباس سے اٹھتی ہے باس اپنوں کی

میں تلخیوں کے بدن کو جلا کے پیتا رہا

مِرے مزاج میں شامل ہے راکھ کتنوں کی

مجھے ہی ناؤ سے باہر دھکیل ڈالا گیا

میں ناؤ کھینچ کے لایا تھا کیسے فتنوں کی

گلے لگا کے انہیں داد دینا الفت سے

مِرے شکار میں شامل تھی گھات جتنوں کی

میں زندگی کے نشیمن سے دور دور رہا

مِرے بدن پہ رہی دھول تیرے رستوں کی

مِرے زوال میں کچھ ہاتھ بھی ہے غیروں کا

مِری شکست میں شامل ہے ساکھ اپنوں کی


آفتاب احمد شاہ

No comments:

Post a Comment