Wednesday, 8 September 2021

دیے کی آنکھ سے جب گفتگو نہیں ہوتی

 دِیے کی آنکھ سے جب گفتگو نہیں ہوتی

وہ میری رات کبھی سرخرو نہیں ہوتی 

ہوا کے لمس میں اس کی مہک بھی ہوتی ہے 

وہ شاخِ گل جو کہیں رو بہ رو نہیں ہوتی 

کسے نصیب یہ شیرینئ لب و لہجہ 

ہر ایک دشت میں یہ آب جو نہیں ہوتی

میں حرف حرف میں پیکر تِرا سموتا ہوں 

غزل تو ہوتی ہے پر ہو بہ ہو نہیں ہوتی 

کبھی کبھی تو میں خود سے کلام کرتا ہوں 

کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے تُو نہیں ہوتی 


اشرف یوسفی

No comments:

Post a Comment