Wednesday, 8 September 2021

اس قدر غور سے دیکھا ہے سراپا اس کا

 اس قدر غور سے دیکھا ہے سراپا اس کا

یاد آتا ہی نہیں اب مجھے چہرہ اس کا

اس پہ بس ایسے ہی گھبرائی ہوئی پھرتی تھی

آنکھ سے حسن سمٹتا ہی نہیں تھا اس کا

سطح احساس پہ ٹھہرا نہیں سکتے جس کو

ایک اک خط میں توازن ہے کچھ ایسا اس کا

اپنے ہاتھوں سے کمی مجھ پہ نہ رکھی اس نے

میری تو لوح مقدر بھی ہے لکھا اس کا

میں نے ساحل پہ بچھا دی ہے صف ماتم ہجر

لہر کوئی تو مٹا دے گی فسانہ اس کا

وصل اور ہجر کے مابین کھڑا ہوں کاشف

طے نہ ہو پایا تعلق کبھی میرا اس کا


کاشف رضا

No comments:

Post a Comment