عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام
نکلا ہے چاند سوگ مناتا امامؑ کا
یاد آیا دشتِ کرب و بلا وقت شام کا
دریا کو دیکھ کر مِری آنکھیں چھلک پڑیں
پھر آ گیا خیال کسی تشنہ کام کا
لگتا ہے مجھ کو قریۂ جاں بھی لٹا لٹا
جب سے سنا ہے دشت میں لٹنا خیام کا
یوں رو رہے ہیں تیرے بہتّر کو آ ج بھی
جیسے یہ واقعہ ہو ابھی کَل کی شام کا
کس غم میں سوگوار ہوئے میرے شہر و بن
ہر آنکھ سے ہے اشک رواں کس کے نام کا
قدموں کی خاک چوم کے حر نے کی التجا
مولا قصور بخش دیں اپنے غلام کا
کاظم کی شاعری کو عطا کیجیے دوام
صدقہ حسینؑ، اپنی حیاتِ دوام کا
کاظم جعفری
No comments:
Post a Comment