یہ جو اک شور سا میسر ہے
دل دھڑکتا ہوا میسر ہے
سانس لینے سے ڈر رہا ہوں میں
ایسی آب و ہوا میسر ہے
اپنے کرتب دکھا رہے ہیں سب
جس کو جتنی عطا میسر ہے
آپ کی گفتگو میں پورا دوست
چائے کا ذائقہ میسر ہے
سیدھے رستے پہ یوں نہیں آیا
آپ کا نقشِ پا میسر ہے
شاہد اقبال
No comments:
Post a Comment