Wednesday, 8 September 2021

وہ سب کے لیے انصاف مانگتا تھا نظمیں لکھ کر

 وہ سب کے لیے انصاف مانگتا تھا

نظمیں لکھ کر

اس کے نوحوں میں

ماں کا درد چھپا تھا

جو نامعلوم افراد میں

اپنا بیٹا ڈھونڈتے ڈھونڈتے

بینائی کھو چکی تھی

اس بہن کی سسکیاں

صرف وہ سن سکتا تھا

جو لاپتہ لوگوں میں

اپنا بھائی تلاشتی

مایوسی کی اندھی قبر میں جا اتری تھی

وہ کشکول اٹھائے 

شہر کی سڑکوں پر انصاف مانگتا رہتا

لوگ اسے عادی بھکاری سمجھ کر دھتکار دیتے تھے

وہ برا نہیں مناتا

وہ جانتا ہے

جن کے پیٹ بھرے ہوتے ہیں 

اور گھروں میں آسودگی کھیلتی ہے

وہ غم بھوگنے والوں کے درد سے ناآشنا رہتے ہیں

آنتوں کا قتل

معدے سے کھانے کی لذت اور شہوت چھین لیتا ہے

ابھی جو گولی ان کے گھر تک اور جو

زخم ان کے بدن پر نہیں لگا

اس کے درد سے وہ ناآشنا ہیں

مگر اگلا نشانہ وہ بھی ہو سکتے ہیں

اس لیے وہ

بنجر آنکھوں میں خواب سجائے

سنگ ہاتھوں میں کشکول پکڑے

انسانیت کو بھنبھوڑتے ہوئے

ان لوگوں کو فراموشی کی

نیند سے جگانے میں لگا رہتا تھا

جانے کب اگلی گولی اس کے لیے ہو

مگر

نہ تو اب کوئی اسے رونے والا تھا

اور نہ ہی

ڈھونڈنے والا

مگر تاریخ لکھے گی

وہ

تھا

جو ہمیش انہونی کا منتظر رہا

اور آخری مرتبہ بھی

جب شہر کے لوگوں نے اسے دیکھا

تو اپنی منتظر اندھی آنکھیں لیے

لرزاں ہاتھوں سے

کوڑے کے ڈھیر سے

انصاف کا لاشہ

شاپر میں لپیٹ رہا تھا


نائلہ راٹھور

No comments:

Post a Comment