تمہارے ہوتے بھی اے مہرباں! مسلط ہے
ہم ایسے لوگوں پہ ابدی خزاں مسلط ہے
یہ آفتیں، یہ وبائیں، یہ زورِ قہر و ستم
خطا معاف، مگر تو کہاں مسلط ہے؟
جو تھک بھی جائیں تو آواز دے نہیں سکتے
سفر کے ماروں پہ کیا امتحاں مسلط ہے
کچھ اس لیے بھی کبھی شاد ہو نہیں پائے
ازل سے ہم پہ وہ بارِ گراں مسلط ہے
کسی نے پوچھا تو ہنس کر کہا؛ ہمیں کیا غم
جو اس نے پوچھا تو روئے کہ؛ ہاں مسلط ہے
یونہی سوال کیا؛ تجھ کو بھی کوئی دکھ ہے؟
زمین کہنے لگی؛ آسماں مسلط ہے
وہ حال ہے کہ بس اکرام الامان و حفیظ
یقین والوں پہ بھی اب گماں مسلط ہے
اکرام افضل
No comments:
Post a Comment