تجھ سے جو پی کے چائے جاتے ہیں
ہوش میں کیسے لائے جاتے ہیں
چاند گرہن سے پہلے پہلے کیوں
سب ستارے چھپائے جاتے ہیں
مطمئن خود کو کرنا پڑتا ہے
قہقہے پھر لگائے جاتے ہیں
اب فقط آپ کی ہی آمد پر
پھول باغوں سے لائے جاتے ہیں
کون سی بات آ رہی ہے یاد
کب سے وہ مسکرائے جاتے ہیں
اب تِرے نام کی ہی لوری سے
گھر کے بچے سلائے جاتے ہیں
شاہد اقبال
No comments:
Post a Comment