Tuesday, 14 September 2021

تجھ سے جو پی کے چائے جاتے ہیں

تجھ سے جو پی کے چائے جاتے ہیں

ہوش میں کیسے لائے جاتے ہیں

چاند گرہن سے پہلے پہلے کیوں

سب ستارے چھپائے جاتے ہیں

مطمئن خود کو کرنا پڑتا ہے

قہقہے پھر لگائے جاتے ہیں

اب فقط آپ کی ہی آمد پر

پھول باغوں سے لائے جاتے ہیں

کون سی بات آ رہی ہے یاد

کب سے وہ مسکرائے جاتے ہیں

اب تِرے نام کی ہی لوری سے

گھر کے بچے سلائے جاتے ہیں


شاہد اقبال

No comments:

Post a Comment