تیرے غم میں یہ حال تھوڑی ہے
اس میں تیرا کمال تھوڑی ہے
اچھا گزرا نہیں تو کیا غم ہے
باقی اک یہ ہی سال تھوڑی ہے
اپنے مطلب کو مجھ سے ملتا ہے
اس کو میرا خیال تھوڑی ہے
نہ کبھی آئے گا سمجھ میں یہ
کوئی میرا سوال تھوڑی ہے
بس کہ اُکتا گیا محبت سے
دل کے شیشے میں بال تھوڑی ہے
خشک آنسو ہیں بجھ گیا دل بھی
خواہشوں کا زوال تھوڑی ہے
ٹھوکروں پر بھی جو رہے ثابت
دل ہے جامِ سفال تھوڑی ہے
غم کبھی بے سبب بھی ہوتے ہیں
اک تِرا ہی ملال تھوڑی ہے
نائلہ راٹھور
No comments:
Post a Comment