Tuesday, 14 September 2021

تیرے غم میں یہ حال تھوڑی ہے

 تیرے غم میں یہ حال تھوڑی ہے

اس میں تیرا کمال تھوڑی ہے

اچھا گزرا نہیں تو کیا غم ہے

باقی اک یہ ہی سال تھوڑی ہے

اپنے مطلب کو مجھ سے ملتا ہے

اس کو میرا خیال تھوڑی ہے

نہ کبھی آئے گا سمجھ میں یہ

کوئی میرا سوال تھوڑی ہے

بس کہ اُکتا گیا محبت سے

دل کے شیشے میں بال تھوڑی ہے

خشک آنسو ہیں بجھ گیا دل بھی

خواہشوں کا زوال تھوڑی ہے

ٹھوکروں پر بھی جو رہے ثابت

دل ہے جامِ سفال تھوڑی ہے

غم کبھی بے سبب بھی ہوتے ہیں

اک تِرا ہی ملال تھوڑی ہے


نائلہ راٹھور

No comments:

Post a Comment