اک مسکراہٹ کی خاطر
اے میرے غم زمانے کو بتانے والی
لُٹا دی متاعِ زندگی تجھ پر
مگر پھر بھی تُو
میرے اور محبتوں کو
محض اک مذاق سمجھ کر
انجانے ڈگر پر چل پڑی ہے
جس کی راہ پہ خوشیوں کی خزاں کھڑی ہے
باوجود اس کے
میں تِرا رستہ دیکھتا ہوں
امید کے دھوپ سینکتا ہوں
کہ شاید کبھی
میرے عشق کے سورج کی تمازت
تیرے دل کو موم کر دے
اور میرے جذبوں کی صداقت تجھ پر عیاں ہو جائیں
اور ہم یکجاں ہو جائیں
رضوان عالم
No comments:
Post a Comment