گنوا دیا ہے جسے تُو نے سوچنے کے لیے
وہی گھڑی تھی مِرے یار! فیصلے کے لیے
کسی نے عشق کے آغاز میں کہا تھا میاں
تجھے ملا ہے یہی سانپ پالنے کے لیے
میں دن گزار کے دفتر سے لوٹ آیا ہوں
اداس شام کے منظر کو دیکھنے کے لیے
ہماری تلخ کلامی پہ صبر کرتے ہیں
ہمارے دوست فقط اپنے فائدے کے لیے
میں اپنے باپ کی تلوار گروی رکھ آیا
کسی کے واسطے کنگن خریدنے کے لیے
خدا کا شکر وہ خود ہی کنویں میں گر گئے ہیں
جو مجھ کو لائے تھے جنگل میں مارنے کے لیے
یہ رات کتنے دنوں بعد آئی ہے رضوان
تمہارے ہجر کے لمحے سنوارنے کے لیے
رضوان عالم
No comments:
Post a Comment