Monday, 21 March 2022

حسین لڑکی کیوں رو رہی ہو

 حسین لڑکی! کیوں رو رہی ہو

تمہارے رونے سے سارا منظر

اداسیوں میں بدل چکا ہے

جو تتلیاں تھیں وہ مر چکی ہیں

وہ بھنورا سُولی پہ چڑھ چکا ہے

حسین لڑکی! کیوں رو رہی ہو

اے مونا لیزا! تمہاری مُسکاں

جو اک فریبی نے چھین لی تھی

تو اس کے بدلے میں 

مسکان چھین کر تم ہنس پڑیں تھیں

کسی کا دھوکہ کسی کو دے کر سکوں ملا تھا

سو کیا ہوا ہے؟

میں جانتا تھا فریب ہے سب

یہ رونا چھوڑو

حسین لڑکی! یہ مت کہو تم کہ 

کتنا اچھا ہوں، کیسا ہوں میں

ہزاروں پریاں نصیب میں ہیں

حسین لڑکی! یہ مت کہو تم

میں جانتا ہوں کہ میرے حصے میں ٹوٹے دل ہیں

اداس لمحے ہیں سوگ ہی ہیں، میں جانتا ہوں

حسین لڑکی! تمہارا دھوکہ سنبھال لوں گا

میں کس طرح سے بھی کیسے کر کے

تمہاری یادوں کو ٹال لوں گا

حسین لڑکی! یہ رونا چھوڑو

وہ میری مسکاں سجاؤ چہرے پہ 

ہنس کے دیکھو میں جا رہا ہوں


عثمان نیاز

No comments:

Post a Comment