Thursday, 15 April 2021

کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات

 کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات

چھپ کے بانہوں میں سو رہی ہے رات

دُکھ ہے ٹھہرا ہوا نگاہوں میں

تیری یادیں بلو رہی ہے رات

مجھ کو خوابوں کے باغ میں لا کر

گھنے جنگل میں کھو رہی ہے رات

روشنی نے لگائے جو الزام

بہتی آنکھوں سے دھو رہی ہے رات

اس کو بانہوں میں بھر رہی ہوں میں

چاند خود میں سمو رہی ہے رات

وصل کا دن طلوع ہونا ہے

میں تو خوش ہوں کہ ہو رہی ہے رات


عاصمہ طاہر

No comments:

Post a Comment