Thursday, 15 April 2021

کیوں دی تھی تمہیں دل نے صدا یاد نہیں ہے

 کیوں دی تھی تمہیں دل نے صدا یاد نہیں ہے

اب کوئی بھی جینے کی ادا یاد نہیں ہے

اک پل میں کِھلا دیتا تھا جو غنچۂ دل کو

وہ تم تھے کہ تھی بادِ صبا یاد نہیں ہے

جلتا تھا بدن چاند کی کرنوں کی لپٹ سے

کیوں چاندنی دیتی تھی سزا یاد نہیں ہے

پلکوں پہ شرارے تھے کہ پگھلے ہوئے تارے

کیا کیا تھا جو راتوں کو پیا یاد نہیں ہے

منظر تِری رخصت کا قیامت سے سوا تھا

کب ہو گئے ہم خود سے جدا یاد نہیں ہے

ہاتھوں کو چھپائے ہوئے لب بستہ کھڑے ہیں

کس درد کی مانگی تھی دوا یاد نہیں ہے

رہ کس کی تکی ایسی کہ پتھرا گئیں آنکھیں

کیوں رکھا دریچے میں دِیا یاد نہیں ہے

ہر عیب ہنر بن گیا دنیا کی نظر میں

لگتا ہے کہ لوگوں کو خدا یاد نہیں ہے ​


نجمہ یوسف

No comments:

Post a Comment