کب تک رکھے گی زندگی اپنی قیود میں
اک روز در بناؤں گا خاکی وجود میں
بے بال و پر بھی تا بہ فلک ہے میری اڑان
کس نے ہنر یہ رکھ دیا میری نمود میں
پھینکوں گا میں اتار کے جس روز یہ وجود
کھولوں گا تم پہ فلسفہ بود و نبود میں
اڑنے لگا ہوں ساتھ میں لے کر قفس بھی یہ
طاقت ہے اس قدر تیرے نام و درود میں
طیّور بھی ہوا میں سب ساکت کھڑے ملے
میں نے پڑھی زبور جو لحنِ داؤد میں
الطاف فیروز
No comments:
Post a Comment