روح بے قرار ہے
فضا بھی سوگوار ہے
اداس ہے کلی کلی
لٹی لٹی بہار ہے
جو ربط اس سے تھا مرا
وه اب بھی استوار ہے
کسے غرض حیات سے
یہ زندگی تو بار ہے
یہ شعر ہیں کے ہے صدا
یہ درد کی پکار ہے
یہ بےسبب اداسیاں
یہ کس کا انتظار ہے
لٹ چکا ہے قافلہ
غبار ہی غبار ہے
میں غم سے ہم کنار ہوں
وه سر بہ سر نکھار ہے
مگر سہیل کیا کروں
اسی سے مجھ کو پیار ہے
سہیل احمد
No comments:
Post a Comment