Saturday, 13 November 2021

روح بے قرار ہے

 روح بے قرار ہے

فضا بھی سوگوار ہے

اداس ہے کلی کلی

لٹی لٹی بہار ہے

جو ربط اس سے تھا مرا

وه اب بھی استوار ہے

کسے غرض حیات سے

یہ زندگی تو بار ہے

یہ شعر ہیں کے ہے صدا

یہ درد کی پکار ہے

یہ بےسبب اداسیاں

یہ کس کا انتظار ہے

لٹ چکا ہے قافلہ

غبار ہی غبار ہے

میں غم سے ہم کنار ہوں

وه سر بہ سر نکھار ہے

مگر سہیل کیا کروں

اسی سے مجھ کو پیار ہے


سہیل احمد

No comments:

Post a Comment