Saturday, 13 November 2021

خیال یار کی خوشبو حیات کی ضامن

 خیال یار کی خوشبو حیات کی ضامن

مِرے ادب کا خلاصہ نکات کی ضامن

شبِ فراق جگائے گی زلزلے لیکن

نگاہِ شہرِ غزالاں ثبات کی ضامن

غموں کی دھوپ برسنے سے کچھ نہیں ہو گا

مِرے وجود کی ہلچل صفات کی ضامن

اندھیری رات کا شکوہ بجا سہی لیکن

پگھلتی صبح کی سرخی نجات کی ضامن

بتوں کو توڑ کے کعبہ کو کر دیا آزاد

دلوں کی سنگ تراشی، منات کی ضامن

شرابِ کہنہ سے مسعود کچھ نہیں ہو گا

نئے بدن کی لگاوٹ ثبات کی ضامن


مسعود جعفری

No comments:

Post a Comment