Tuesday, 7 December 2021

دل کی روداد دل لگی نہ سہی

 دل کی روداد دل لگی نہ سہی

سن تو لیجے کبھی ابھی نہ سہی

دیکھ کر مجھ کو پھیر لیں نظریں

ان کے چہرے پہ برہمی نہ سہی

ان کا جلوہ تو ہر مقام پہ ہے

عام فیضانِ دید ہی نہ سہی

میرے ایقان میں کمی کیوں ہے

آپ کے لطف میں کمی نہ سہی

جبر ہستی ہے ناگزیر اشرف

زندگی آج زندگی نہ سہی


اشرف رفیع

No comments:

Post a Comment