اے دوست جو ایک تھی حویلی
برباد وہ ہو گئی حویلی
دکھ درد ہیں کیا جدا ہمارے
خاموش ہے کیوں مِری حویلی
جب لوگ ارادہ کر چکے تھے
کیسے انہیں روکتی حویلی
ویران جسے کیا گیا تھا
آباد وہی رہی حویلی
پلکوں پہ ستارے جگمگائے
اک خواب نما کُھلی حویلی
تعمیر اِسے کِیا تھا کس نے
اور کس کے لیے سجی حویلی
آنکھیں بھی تلاش کر رہی ہیں
جانے وہ کدھر گئی حویلی
ہم لوگ ظہور سو رہے تھے
یہ دیکھ کے جاگ اُٹھی حویلی
ظہور چوہان
No comments:
Post a Comment