Tuesday, 7 December 2021

اے دوست جو ایک تھی حویلی

 اے دوست جو ایک تھی حویلی

برباد وہ ہو گئی حویلی

دکھ درد ہیں کیا جدا ہمارے

خاموش ہے کیوں مِری حویلی

جب لوگ ارادہ کر چکے تھے

کیسے انہیں روکتی حویلی

ویران جسے کیا گیا تھا

آباد وہی رہی حویلی

پلکوں پہ ستارے جگمگائے

اک خواب نما کُھلی حویلی

تعمیر اِسے کِیا تھا کس نے

اور کس کے لیے سجی حویلی

آنکھیں بھی تلاش کر رہی ہیں

جانے وہ کدھر گئی حویلی

ہم لوگ ظہور سو رہے تھے

یہ دیکھ کے جاگ اُٹھی حویلی


ظہور چوہان

No comments:

Post a Comment