Tuesday, 7 December 2021

وہی نہ ملنے کا غم اور وہی گلہ ہو گا

 وہی نہ ملنے کا غم اور وہی گِلا ہو گا

میں جانتا ہوں مجھے اس نے کیا لِکھا ہو گا

کواڑوں پر لِکھی ابجد گواہی دیتی ہے

وہ ہفت رنگی کہیں چاک ڈھونڈھتا ہو گا

پرانے وقتوں کا ہے قصر زندگی میری

تمہارا نام بھی اس میں کہیں لکھا ہو گا

چبھن یہ پیٹھ میں کیسی ہے مڑ کے دیکھ تو لے

کہیں کوئی تجھے پیچھے سے دیکھتا ہو گا

گلی کے موڑ سے گھر تک اندھیرا کیوں ہے نظام

چراغ یاد کا اس نے بجھا دیا ہو گا


شین کاف نظام

No comments:

Post a Comment