Tuesday, 7 December 2021

محسوس جو ہوتا ہے کہ ہم ہیں بھی نہیں بھی

 محسوس جو ہوتا ہے کہ ہم ہیں بھی نہیں بھی

دیکھو تو جو ہم ایسے ہوں دو چار کہیں بھی

اوہام کے اسرار بھی کچھ کم نہیں گہرے

چکر میں بہت آئے ہیں کچھ اہلِ یقیں بھی

از روزِ ازل ہے کہ نہیں ہے کا ہے محشر

اور اس کا جواب آج بھی ہاں بھی ہے نہیں بھی

جو بات سمجھ لے وہ کہیں بھی نہ ملے گا

گھوم آؤ جدھر چاہو، چلے جاؤ کہیں بھی

اقرار بھی انکار بھی پر تول رہا ہے

پرواز سے لرزاں ہے مِری ہاں بھی نہیں بھی

آفاق جھکا آئے جہاں بیٹھے ہوں چپ چاپ

بس ہم سے بہت تنگ فلک بھی ہے زمیں بھی

تا حدِ نظر نقشِ قدم بھی نہیں ملتا

ہر سنگ سے ظاہر کوئی رودادِ جبیں بھی

جو نقشِ قدم وقت کے ہیں ریت پہ اے تلخ

کچھ ایسے فلک پر بھی ہیں کچھ زیرِ زمیں بھی


منموہن تلخ

No comments:

Post a Comment