کون ہے کس کا خریدار چلو چھوڑو بھی
ہیں سبھی رونقِ بازار چلو چھوڑو بھی
کوئی زاہد ہے نہ مے خوار چلو چھوڑو بھی
ہیں سبھی صاحب کردار چلو چھوڑو بھی
فرق کیا ملزم و منصف میں بتایا جائے
ہے یہ بےکار کی تکرار چلو چھوڑو بھی
کچھ رسوماتِ کُہن ہیں کہ نباہیں کب تک
اُنسیت، مخلصی کردار چلو چھوڑو بھی
لاکھ اب آپ کئے جائیں مسیحائی تو کیا
ہے وہی درد کی جھنکار چلو چھوڑو بھی
دل کی راہوں پہ بھلا تم بھی چلو گے کب تک
خار ہی خار ہیں اسرار، چلو چھوڑو بھی
اسرارالحق
No comments:
Post a Comment