Friday, 6 August 2021

یہ اور بات کہ تاخیر سے الگ کروں گا

 یہ اور بات کہ تاخیر سے الگ کروں گا

مگر تجھے تِری تصویر سے الگ کروں گا

مسافرت سے جو فرصت ہوئی نصیب تو پھر

تھکن کو پاؤں کی زنجیر سے الگ کروں گا

جو میرے دائمی احساس سے جُڑا ہے سبق

میں کس طرح اسے تحریر سے الگ کروں گا

کنوارے خواب ہوئے جا رہے ہیں آوارہ

انہیں میں لذتِ تعبیر سے الگ کروں گا

اتارنا ہے مجھے اب انا کو موت کے گھاٹ

سو اس کو لہجۂ شمشیر سے الگ کروں گا

مِرے بدن میں لگی ہے جو ہجر کی دیمک

میں اس کو وصل کی تدبیر سے الگ کروں گا

روایتوں سے رکھوں گا میں فیض رشتہ مگر

سخن ذرا سا تقی میر سے الگ کروں گا


فیض خلیل آبادی

No comments:

Post a Comment