کسی کے ہجر کو ایسے منا رہے تھے ہم
گھڑی میں وقت کو اُلٹا گھما رہے تھے ہم
نہیں تھا یاد سبق اپنی زندگی کا ہمیں
سو امتحان کا پرچہ بنا رہے تھے ہم
کنارے بیٹھ کے آنسو بہا کے آئے تھے
ندی کی پیاس کو پانی پلا رہے تھے ہم
کیا یہ جرم کہ اپنے ہی دل کی سنتے تھے
یہی کہیں کہ خود اپنی سزا رہے تھے ہم
ہم اس کے ظلم کے بڑھنے کے انتظار میں تھے
تبھی تو ضبط کی قوت بڑھا رہے تھے ہم
خود اپنے آپ کو شانوں پہ لے کے چلتے تھے
خود اپنے آپ کا ماتم منا رہے تھے ہم
عائشہ ایوب
No comments:
Post a Comment