Tuesday, 22 June 2021

جو شخص بھی ملا ہے وہ اک زندہ لاش ہے

 جو شخص بھی ملا ہے وہ اک زندہ لاش ہے

انساں کی داستان بڑی دلخراش ہے

دامن دریدہ قلب و نظر زخم زخم ہیں

اب شہر آرزو میں یہی بود و باش ہے

بس اب تو رہ گئی ہے دکھاوے کی زندگی

سانسوں کے تار تار میں ایک ارتعاش ہے

مٹی نے پی لیا ہے حرارت بھرا لہو

جوش نمو ملا تو بدن قاش قاش ہے

کانٹوں نے بھی خزاں کی غلامی قبول کی

دیکھو تو آج چہرۂ گل پر خراش ہے

وہ دور اب کہاں کہ تمہاری ہو جستجو

اس دور میں تو ہم کو خود اپنی تلاش ہے

افضل وہ بن سنور کے تو آ جائیں گے کبھی

آئینۂ حیات مگر پاش پاش ہے


افضل منہاس

No comments:

Post a Comment