Monday, 4 April 2022

دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں

 دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں

کتنے ہی زخموں کے شہر بساتے ہیں

کرب کی ہاہا کار لیے جسموں میں ہم

جنگل جنگل صحرا صحرا جاتے ہیں

دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں

دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں

سوچوں کو لفظوں کی سزا دینے والے

سپنوں کے سچے ہونے سے گھبراتے ہیں

درد کا زندہ رہنا پیاس کا معجزہ ہے

دیوانے ہی یہ بن باس کماتے ہیں

تاریخوں میں گزرے ماضی کی صورت

اہل جنوں کے نقش پا مل جاتے ہیں

دکھ سکھ بھی کرتا ہے سر بھی پھوڑتا ہے

دیواروں سے فارغ کے سو ناتے ہیں


فارغ بخاری

No comments:

Post a Comment