Friday, 14 October 2022

اس دور خرابی میں غم عشق کے مارے

 گیت/غزل


اس دورِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے

زندہ ہیں، یہی بات بڑی بات ہے پیارے

یہ ہنستا ہوا چاند،۔ یہ پُر نور ستارے

تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے

ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے

ہر صبح، میری صبح پہ روتی رہی شبنم

ہر رات میری رات پہ ہنستے رہے تارے

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غمِ جاناں

کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے


حبیب جالب

No comments:

Post a Comment