گیت/غزل
پاؤں چُھو لینے دو پھولوں کو عنایت ہو گی
ورنہ، ہم کو نہیں ان کو بھی شکایت ہو گی
آپ جو پھول بچھائیں انہیں ہم ٹھکرائیں
ہم کو ڈر ہے کہ یہ توہینِ محبت ہو گی
دل کی بے چین امنگوں پہ کرم فرماؤ
اتنا رک رک کے چلو گی تو قیامت ہو گی
شرم روکے ہے اُدھر شوق اِدھر کھینچے ہے
کیا خبر تھی کبھی اس دل کی یہ حالت ہو گی
شرم غیروں سے ہوا کرتی ہے اپنوں سے نہیں
شرم ہم سے بھی کرو گے، تو مصیبت ہو گی
ساحر لدھیانوی
No comments:
Post a Comment