Tuesday, 6 October 2020

کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں

 کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں

یہ مہوش ہم فقیروں کی دعا لیں

نجانے پھر یہ رت آئے نہ آئے

جواں پھولوں کی کچھ خوشبو چرا لیں

بہت روئے زمانے کے لیے ہم

ذرا اپنے لیے آنسو بہا لیں

ہم ان کو بھولنے والے نہیں ہیں

سمجھتے ہیں غم دوراں کی چالیں

ہماری بھی سنبھل جائے گی حالت

وہ پہلے اپنی زلفیں تو سنبھالیں

نکلنے کو ہے وہ مہتاب گھر سے

ستاروں سے کہو نظریں جھکا لیں

ہم اپنے راستے پر چل رہے ہیں

جناب شیخ اپنا راستہ لیں

زمانہ تو یونہی روٹھا رہے گا

چلو جالب انہیں چل کر منا لیں


حبیب جالب

No comments:

Post a Comment