Wednesday, 7 October 2020

دیوار وصال درمیاں ہے

 دیوارِ وصال درمیاں ہے


کیا ختم ہوئیں ہماری باتیں

کیا آ گئے آخری کنارے

کیا موسم گل گزر چکا ہے

کیا خواب بکھر گئے ہمارے

کیا خواب بکھر گئے ہمارے

آنکھوں سے قصور کیا ہوا ہے

ٹوٹی ہوئی پتیوں کی صورت

کیا ہم کو خزاں نے آ لیا ہے

اک آگ سی جل رہی ہے لیکن

یہ کس نے ہمیں بجھا دیا ہے

کیا سچ ہے کہ اب ہمارے دل میں

اک اور جگہ بنی رہے گی

کیا سچ ہے کہ اب ہمارے دل میں

اک.دوسرے کی کمی رہے گی

کیا سچ ہے کہ رُت گلاب والی

ناقابل واپسی رہے گی

اک عمر محبتوں کے بدلے

تا عمر کی دوستی رہے گی

ٹوٹے گی تو کتنی دیر اے دوست

یہ شاخِ شجر ہری رہے گی

سوچو تو ذرا محبتوں کے

کس طرح کے طور ہو گئے ہیں

بے مصلحتی کے سارے لمحے

اب قابل غور ہو گئے ہیں

سچ پوچھتے ہو تو سچ یہی ہے

ہم اور سے اور ہو گئے ہیں


سعود عثمانی

No comments:

Post a Comment