Thursday, 6 October 2022

عشق تھا عشق بھلا کیسے گوارا کرتے

 عشق تھا، عشق بھلا کیسے گوارا کرتے

یہ کوئی شادی نہیں تھی جو دوبارہ کرتے

اس نے جاتے ہوئے مُڑ کر ہی نہ دیکھا پیچھے

کس طرح کرتے جو رُکنے کا اشارہ کرتے

کوئی ہوتا تو محبت میں ہرانے والا

جان کی بازی بھی ہم شوق سے ہارا کرتے

میرے مرنے سے اگر فائدہ ہوتا ان کو

دوست ہر روز مجھے جان سے مارا کرتے


التمش عباس

No comments:

Post a Comment