Thursday, 6 October 2022

یوں وفا کا قرض اتارا کیجئے

 یوں وفا کا قرض اتارا کیجیۓ

جیت کر بھی ان سے ہارا کیجیۓ

جب زمینیں پاؤں کے نیچے نہ ہوں

آسمانوں کا نظارہ کیجیۓ

رک گئے دنیا کے سارے سلسلے

ایک ہلکا سا اشارہ کیجیۓ

دیر تک دل میں رہے اک شور سا

ایسی نظروں سے پکارا کیجیۓ

اب ہمیں پہچانتا کوئی نہیں

کیسے اس گھر میں گزارہ کیجیۓ

مِٹ گئیں بلراج امیدیں تمام

آرزوؤں سے کنارہ کیجیۓ


بلراج بخشی

No comments:

Post a Comment