یوں وفا کا قرض اتارا کیجیۓ
جیت کر بھی ان سے ہارا کیجیۓ
جب زمینیں پاؤں کے نیچے نہ ہوں
آسمانوں کا نظارہ کیجیۓ
رک گئے دنیا کے سارے سلسلے
ایک ہلکا سا اشارہ کیجیۓ
دیر تک دل میں رہے اک شور سا
ایسی نظروں سے پکارا کیجیۓ
اب ہمیں پہچانتا کوئی نہیں
کیسے اس گھر میں گزارہ کیجیۓ
مِٹ گئیں بلراج امیدیں تمام
آرزوؤں سے کنارہ کیجیۓ
بلراج بخشی
No comments:
Post a Comment