Thursday, 6 October 2022

کبھی کبھی تو دل کہتا ہے

 اب کے کچھ پیسے آئیں تو

سب سے پہلے

اس دھرتی کو رنگ کرنا ہے

چھت کو ہلکا نیلا کر کے

کہیں کہیں پہ سُرخی مائل عکس بھی ہوں تو

ٹھیک رہے گا

دیواروں پر کچی دھوپ کی روپہلی کرنوں ایسی

دُھلی سفیدی بھی کرنی ہے

درزیں ساری بھر دینی ہیں

جتنا بوجھ ہے چھت پر، اس کو

نیچے لا کر رکھ دینا ہے

دروازے میں کان پڑی ہے

اس چوکھٹ کے چاروں کونے

اپنے بازو چھوڑ رہے ہیں

چُولیں اس کی تڑخ گئی ہیں

اس کمرے کی دیواروں پر

کتنے جالے تنے ہوئے ہیں

سب سے پہلے

ایک دِیے کو روشن کر کے

اس کے طاق میں رکھ دینا ہے

کبھی کبھی تو دل کہتا ہے

کیا یہ سب کچھ نئے سرے سے بن سکتا ہے

لیکن

اتنا وقت کہاں ہے


عابد خورشید

No comments:

Post a Comment