Thursday, 6 October 2022

زمانہ کتنا بدل گیا ہے مقام رشتوں کا مٹ رہا ہے

جہان زادی کا سٹیٹس


زمانہ کتنا بدل گیا ہے

مقام رشتوں کا مٹ رہا ہے

کہیں محبت کا رُوپ دھارے

کہیں سُلگتے یہ نفرتوں سے

کہیں پہ آنکھوں میں ریت بن کر

چُبھن کی صورت رُلا رہے ہیں

کہیں یہ برقی پیام بن کر

ہزار میلوں پہ چھائی دوری کے بادلوں کو ہٹا رہے ہیں

دلوں کی دھڑکن بڑھا رہے ہیں

روایتوں کو بدل رہے ہیں

وفا کے دھاگے جفا سے ہر دم الجھ رہے ہیں

اداس لمحے، خوشی و حیرت کی ساری گھڑیاں

دلوں سے باہر نکل کے دیوار کا نوشتہ

محبت ازلی عظیم رشتہ

جو لاکھوں پردوں میں جگمگاتا تھا

اب سٹیٹس پہ اشتہا کی خبر کی صورت بدل رہا ہے

کوئی بھی جذبہ، کوئی بھی رشتہ

نہ مستقل ہے، نہ معتبر ہے

پلک جھپکنے میں بدلے منظر

کہ جیسے کوئی جہان زادی تعلق اپنا بدل رہی ہو

نئی کوئی چال چل رہی ہو

جنوں کی اگلی جو منزلیں ہیں

وہاں پہ تصویریں آویزاں ہیں

دبی دبی مسکراہٹیں ہیں

گھٹی گھٹی سنسناہٹیں ہیں

جنون، احساس اور محبت

وقار اپنا مٹا رہی ہیں

بتا رہی ہیں

زمانہ کتنا بدل گیا ہے


میمونہ عباس خان

No comments:

Post a Comment