Wednesday, 12 October 2022

دیکھو یہ اس کا دیکھنا دیکھے سے آئے گا

 دیکھو یہ اس کا دیکھنا دیکھے سے آئے گا

اور پھر جو دیکھ لو گے تو دیکھا نہ جائے گا

یہ ایسی منزلیں ہیں کہ رستہ نہیں کوئی

سامان باندھ لو گے تو رستہ بلائے گا

بے دست و پا تھا شب میں تِری یاد کے سبب

اتنا کہ لگ رہا تھا کہ تُو چھوٹ جائے گا

کھو ہی گئی زبان خموشی کے درمیان

صحرا میں کوئی شور بھی کب تک مچائے گا

عامر! تجھے پتا ہی نہیں اصلیت ہے کیا

لیکن یہ خواب میں بھی سفر کٹ ہی جائے گا


عامر اظہر خان

No comments:

Post a Comment