Wednesday, 5 October 2022

پڑھ لے گا کوئی رات کی روئی ہوئی آنکھیں

 پڑھ لے گا کوئی رات کی روئی ہوئی آنکھیں

ہر سمت ہیں آرام سے سوئی ہوئی آنکھیں

جن لوگوں کی منزل پہ نظر ہوتی ہے ہر دم

ان کا ہی تماشا ہیں یہ کھوئی ہوئی آنکھیں

دن بھر تو جمے رہتے ہیں پلکوں پہ وہی خواب

کیوں ہوش میں لاتی نہیں دھوئی ہوئی آنکھیں

آنکھوں کا جمال آپ کو معلوم ہی کیا ہے

دیکھیں ہیں کبھی رات وہ سوئی ہوئی آنکھیں

دل ہے کہ تجھے پائیں بکھر جائیں اے مولا

بینائی کے دھاگے میں پروئی ہوئی آنکھیں

کچھ بھی نہ دکھا معجزہ, تھا ہی یہی عامر

کھولی گئیں زمزم سے بھگوئی ہوئی آنکھیں


عامر اظہر خان

No comments:

Post a Comment