Sunday, 15 August 2021

طے کر چکے یہ زندگی جاوداں سے ہم

 طے کر چکے یہ زندگی جاوداں سے ہم

آگے بڑھیں گے اور اٹھے ہیں جہاں سے ہم

کس کو صدا دیں کس سے کہیں ساتھ لے چلو

پیچھے رہے غبارِ رہِ کارواں سے ہم

دل میں جو درد ہے وہ نگاہوں سے ہے عیاں

یہ بات اور ہے نہ کہیں کچھ زباں سے ہم

چونکا دیا قفس نے ہمیں گہری نیند سے

وابستہ ہو چلے تھے بہت آشیاں سے ہم

گر آ بھی جائے میری جبیں تک وہ آستاں

لائیں گے سجدہ ریزی کی عادت کہاں سے ہم

فیض جنوں سے فرصت فریاد ہی نہ تھی

ناآشنا ہی رہ گئے طرزِ فغاں سے ہم

دیکھی ہیں ہم نے ان کی پشیماں نگاہیاں

کہنا ہو لاکھ پھر بھی کہیں کس زباں سے ہم


علی جواد زیدی

No comments:

Post a Comment