تُو جا چکا ہے مگر دل یہ مانتا ہی نہیں
کہ ایسا آج سے پہلے کبھی ہوا ہی نہیں
لگے ہو ہاتھ یقیناً تم ایسے ویسوں کے
ملول چہرہ کبھی اس طرح سے تھا ہی نہیں
بسنت اوڑھنے والا وہ گُل بہار بدن
خزاں رسیدہ لبادہ پہن سکا ہی نہیں
کِیا تھا غم تِرے جانے کا ہم نے آخری بار
سو تیرے بعد کسی چیز کا کیا ہی نہیں
نئے وہ تجربے کرتا ہے روز اپنے تئیں
گزشتگانِ محبت سے سیکھتا ہی نہیں
ہمارا زائچہ دیکھا تو جوتشی بولا
جناب آپ کی قسمت میں وہ لکھا ہی نہیں
فہیم الرحمٰن آذر
No comments:
Post a Comment